|
28/03/2018
|
دوحہ
|
حصولِ علم
ایک بہت بڑا کھیل جو
انسانیت کے ساتھ کھیلا گیا وہ یہ کہ حصولِ علم کو حصولِ معاش کے ساتھ جوڑ دیا ۔ اس
کا لازم نتیجہ یہ نکلا کہ انسان بجائے اپنی تخلیق کی طرف گامزن ہوگیا جنہیں وہ
سمجھتا ہے کہ حصولِ معاش میں مددگار ثابت ہوں گی ۔ نتیجاً تخلیقی صلاحیتیں تو ویسے
ہی چھوڑ بیٹھا تھادیگر صلاحیتیں بھی اوسط درجے کی حاصل ہوئیں۔ ہمارے اسلاف جو کام
کرتے تھے کیونکہ اس کا محورحصولِ روزگار نہیں تھا لہٰذا اپنی صلاحیتیوں کو بہترین
طریقے سے استعمال کرتے ہوئے 'احسن' کے درجے تک پہنچ جاتے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے
کہ حصولِ علم کی وجہ کودرست کیا جائے۔ حصولِ علم کا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ انسان
اپنے خالقِ حقیقی کو پہچانے اور اپنے شعور کی سطح کو بلند کرے۔ حصولِ معاش دیگر
ضرورتوں کی طرح ایک ضرورت ہے۔ لہٰذا اسے اسی درجے میں رکھا جائے اور ضرورت سے
زیادہ تو انائیاں اس پر خرچ نہ کی جائیں۔جو توانیاں یہا ں سے بچ جائیں انہیں رب کی
معرفت ، علم کے حصول اور مخلوق کی خدمت میں استعمال کیاجائے۔
No comments:
Post a Comment