Friday, March 22, 2019

حاجی صاحب

19/11/2018
۱۲ ربیع الاول ۱۴۴۰ ھ
دوحہ

حاجی صاحب

آج آسمانوں پر جشن کا سماں ہوگا جیسے کوئی خاص مہمان آیا ہو۔ آسمانوں کو مزّین کیا گیا ہوگا۔ جنت کے لیاس سجائے گئے ہوں گے، احواع و احتمام کے پکووان تیار کیئے گئے ہوں گے۔ آخر ایسا مسافر اپنی منزل مقصود پر پہنچا ہے جو بہت تھکا ہوا ہے۔ ۹۵ سال کا بوڈھا، اور اپنے مالک کے راستے میں چل چل کر اس نے اپنے آپ کو خاک میں ملادیا، روئے زمین کا کوئی شہر کوئی گاؤں ایسا نہ ہوگا جہاں شاید اس کے قدم نہ پڑے ہوں، اب تو شاید اس کی ہڈیاں بھی جواب دے گئی ہونگی۔ اس کی بوٹی بوٹی میں تھکن ہوگی لیکن اس کی روح میں تازگی ہوگی، اور بھلا کیوں نہ ہو کہ وہ لاکھوں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ جو بن گیا۔ وہ جس دن اس راسے میں چلنا شروع ہوا اس کے بعد سے اپنن موت تک رکانہیں، بس چلتا ہی رہا۔ نہ صرف خود چلا بلکہ اوروں کو بھی ساتھ چلاتا رہا۔ وہ جب بات کرتا تو لمبے چوڑے قصے بیان نہیں کرتا تھا۔ اس کی زبان ایک ہی کلمے سے تر رہتی اور وہ کلمہ تھا کہ"اللہ سے ہوتا ہے ، اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا"۔ سفر ہویا حضڑ، یہ کلمے اس کی زبان پر جاری رہتا ، یہاں تک کہ نینداور بیماری میں بحی یہ کلمات اس کی زبان سے ادا ہوئے۔ شاید وہ یہ کلمہ کہتے کہتے ہی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا ہوگا۔

آج مدتوں بعد و ہ آرام کی نیند سویا ہوگا کہ دین کے مٹنے کے غم اور فکر میں وہ اپنی نیند ہو ہی بھلا بیٹھا تھا۔  لوگوں سے ملاقاتیں کرتا کرتا آج اپنے رب کی ملاقات کا مزہ چکھ رہا ہے۔

اب ہم پر محفر ہے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں ؟


No comments:

Post a Comment