|
19/11/2018
|
۱۲ ربیع الاول ۱۴۴۰ ھ
دوحہ
|
قربانی
گذشتہ عید الاضحیٰ
بہت سے احباب سے باتو ں باتوں میں قربانی کا تذکرہ ہوا۔ عام طور پر عیدالاضحیٰ سے
پہلے یہ سوال ہوتا کہ اس دفعہ آپ کا قربانی کا کیا ارادہ ہے۔ قظر میں پاکستنا اور
ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگوں کا جواب یہی تھا کہ ہم نے اپنے ملک میں
رقم بھجوادی ہے اور وہیں قربانی ہوجائے گی۔جب پوچھا گیا کہ صاحب آپ یہاں کیوں
قربانی نہیں کرتے تو عام طور پر جو جواب آتا وہ یہ تھا کہ آپ کو غریب نہیں ملے گا
جس کو قربانی کا گوشت تقسیم کیا جائے۔ جب مزید کچھ سوال کیئے گئے تو اصل جواب آگیا
کہ ہم نے آسان راستہ اختیار کیا کہ ہم پیسے بھیج دیں اور پاکستان میں گھر والے
سارے معاملات سنبھال لیں۔ ہمیں حرکت نہ کرنی پڑے۔ جہاں تک غرباء میں گوشت تقسیم
کرنے کا معاملہ ہے تو آپ کو بیرون ملک بھی غریب دستیاب ہوجائیں گے ، لیکن بالخصوص
قربانی کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں شریعت نے ہمیں مکمل ترف دیا ہے ، چاہیں تو پورا گوشت تقسیم کردیں،
چاہیں تو پورا خود استعمال کرلیں، چاہیں تو کچھ استعمال کریں اور کچھ تقسیم کردیں۔یقیناً
ترجیح اس کو ہے کہ تین حصے کیئے جائیں ، ایک غرباء کیلئے ، ایک رشتہ داروں کیلئے
اور ایک اپنے لئے۔
اگر ہم اس بنیاد پر
کہ غریب دستیاب نہیں ہیں یہاں قربانی نہیں کرتے تو ہم کچھ رقم خرچ کر کے آسانی سے
قربانی تو کرلیں گے لیکن ایک عظیم تجربہ سے محروم ہوجائیں گے۔ ایک جانور کو خریدنا
اور اسے اللہ کے نام پر قربان کرنا، سیدناابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد
کرنا اپنی ذات میں بہت سارے اسباق، ہمیں دیتا ہے۔ ایک اہم نقطہ جو ہم فراموش
کردیتے ہیں وہ یہ ہے کہ آج ہمارے دور کے لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ ہمارے والد صاحب
اپنے وقت میں خود قربانی کیا کرتے تھے اور قصاب کا تصور نہیں تھا، آج ہم قصاب کرتے
ہیں لیکن کم از کم قربانی کے تجربہ سے گزرتے ہیں اور اس عمل کو ہمارے بچے دیکھتے
ہیں۔ اگر ہم یہ کام بھی نہ کریں تو ہمارے بچے یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارے والد صاحب
قربانی کیا کرتے تھے،بلکہ وہ یہ کہیں گے کہ ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ عید
الاضحیٰ پر قربانی ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ ہمیں اس بارے میں کچھ علم نہیں یا یہ کہ
ہمارے والد صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے والدصاحب کیسے قربانی کیا کرتے تھے۔
آج مدتوں بعد و ہ
آرام کی نیند سویا ہوگا کہ دین کے مٹنے کے غم اور فکر میں وہ اپنی نیند ہو ہی بھلا
بیٹھا تھا۔ لوگوں سے ملاقاتیں کرتا کرتا
آج اپنے رب کی ملاقات کا مزہ چکھ رہا ہے۔
اب ہم پر محفر ہے کہ
ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں ؟
No comments:
Post a Comment