Friday, March 22, 2019

دعوت افطاری


۱۶ رمضان ۱۴۳۹ھ                             1/6/2018
دوحہ

دعوت افطاری
گذشتہ کل ایک افطار کی دعوت میں جانا ہوا۔ اہلیہ نے بتایا کہ ایک خاتون وہاں موجود تھیں جو یہ کہہ رہی تھیں کہ انہیں روزے قطعی نہیں پسند ۔ مجھے اور اہلیہ دونوں کو اس بات پر حیرانی ہوئی کہ ایسا تو ممکن ہے کہ کسی شخص پر اعصابی یا جسمانی طور پر روزے بھاری ہوں لیکن باقاعدہ محفل میں بیٹھ کر اللہ کے کسی کام کے بارے میں برسلا اظہار کرنا کہ مجھے یہ پسند ہی نہیں ہے، کچھ مناسب معلوم نہیں ہوا۔ اہلیہ نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی ایک افطار کی دعوت میں انہوں نے اسی قسم کی کوئی بات کی تھی اور روزہ سے اپنی ناگواری کا اظہار کیا ۔
کسی حال میں روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ سختی کا عالم یہ تھا کہ اگر گھر کے کسی فرد کو 104 دگری بخار بھی ہے تب بھی اسے روزہ رکھنا پڑتا تھا۔
یہ بات سنی تھی کہ مجھے ساری بات سمجھ مِں آگئی۔ بچپن کی وہ نامعقول سختی تھی جس نے آج ایک پڑھے لکھے سلجھے ہوئے شخص کو ایک حکم سے متفر کردیا۔
ہم کب تک فرض کو قرض کی طرح ادا کریں گے؟
کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی عبادت کو زبردستی کروانے کے بجائے اس کی حکمتیں اور فضیلتیں بتا کر اس کا شوق پیدا کیا جائے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ کے خوف سے زیادہ اللہ کی محبت دل میں پیدا کی جائے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص سے جوچھوٹ گیا اسے بھلا کر جو اس نے حاصل کرلیا اس پر نظر رکھی جائے؟
کیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ نے جہاں آسانی اور گنجائش دی ہے اس کو استعمال کرنے والے پر ملامت نہ کی جائے؟
بعض بچوں کو ان کے والدین مارمار کر نماز کیلئے بھیجتے ہیں، ان کو اس بات سے مطلب ہوتا ہے کہ یہ مسجد میں جا کر چار رکعتیں پڑھ آئے اور اگر اس نے ایسا کرلیا تو یہ دیندار تصور کیا جائے گا۔ یہ بچہ بڑا ہوتے ہی ایسا نماز سے متنفر ہوتا ہے کہ جمع اور عیدین سے بھی جاتا ہے۔
ایک دفعہ سہہ روزہ لگاتے ہوئے ایک مسجد میں ایک قاری صاحب کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک پائپ ہے اور اس سے وہ مدرسہ میں موجود تمام بچوں کیبیٹھ پر ایک قرب لگاتے جارہے ہیں، شاید ان کے دل میں یہ بات ہوکہ Proactive رہتے ہوئے پہلے ہی ایک ضرب لگادینی چاہئے تا کہ بچے آگے صحیح سے پڑھیں۔
یہ وہ نسل تیار کررہے ہیں جو بڑی ہوکے زیادہ سے زیادہ قرآن سے یہ شغف رکھتی ہے کہ اپنے نام کے ساتھ حافظ لکھتی ہے۔

واضع رہے کہ ہم نے صرف لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو اوپر ذکر کیئے گئے عمل سے بچوں کو گزارتے ہیں۔ اس کو عموم پر قطعاً نہ لاگو کیا جائے۔

No comments:

Post a Comment