۳۰ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ 10/09/2018
دوحہ Doha
ریٹائرمنٹ
ریٹائرمنٹ بھی کیا خوب چیز ہے، جب ایک انسان اپنی نصف سے
زیادہ زندگی کسی کام پر لگادے، اسی کے سارے اسرادودموذ جان جائے، اس کی گرفت انتہائی
مضبوط ہوجائے، اس کی سمجھ قوی ہوجائے اور اسی کا تجربہ نا قابل سیاہ ہوجائے تو ہم
کہتے ہیں کہ گھر بیٹھو اور اور مفت کی روٹیاں توڑو۔ ایسی حماقت بنی نو ع انسان نے
صنعتی دور سے پہلے شاید کبھی نہیں کی۔ وجہ یہی ہے کہ اس دور میں انسانوں کو بھی
مصنوعات یا مشینوں کا کل پرزہ سمجھ لیا گیا کہ ایک مدت پوری کرلینے کے بعد جس طرح
پرزہ ناکارہ ہوجاتا ہے او رکبھی بھی کام چھوڑ سکتا ہے ۔ اسی طرح انسان بھی ناکارہ
ہوگیا اور اب ہمارے کسی کام کا نہیں رہا ۔ گو کہ اس کی لیاقت کا ہمیں فائدہ ہوسکتا
ہے لیکن لیاقت کی ضرورت کسے ہے؟ ہمیں تو جسم کی ضرورت ہے اور جسم اب ہمارے کام کا
نہیں۔ جس طرح ہم پر انے سامان کو کباڑی کو بیچ دیا جاتا ہے کہ جب تکہ یہ ذندہ ہیں
ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتے رہوں۔ اسی لیے آج کے دور میں انسانوں کو "Human Resource" کہا جاتا
ہے۔ "Resource" کے لفظ
کے دکشنری میں درج ذیل معنی ہمیں ملتے ہیں۔
“Money or any
properly that can be converted into money assets”.
“A source of supply
support or aid especially one that can be readily drawn upon when needed”.
درج بالا تعریف سے Human
Resource کی اصلاح کی وضاحت ہوجاتی ہے جب تک اس
"چیز" کی معاشی و قعت ہے اس وقت تک فائدہ مند ہے، اور جب معاشی فائدا
دینے میں ناکام ہوجائے اور اپنی نا کارہ چیز کوگوارا نہ کیا جائے۔
ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو تا ہے
کہ ریٹائرمنٹ موت پر ہی حاصل ہوئی تھی، اس سے پہلے کام ، کام اور بس کام ہی ان کا
اورٹھنا بچھونا تھا۔ عمر کے ساتھ ساتھ علم، تجربات اور لیاقت میں اضافہ ہوتا رہتا
ہے اور ساتھ جڑے لوگوں کو منتقل ہوجاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment