|
30/6/18
|
۱۶شوال ۱۴۳۹ ھ
کراچی
|
وی آئی پی دسترخوان
گذشتہ ہفتے ایک شادی
کی تقریب میں جانا ہوا۔ اسٹیج کے قریب ایک وی آئی پی میز تیار تھی۔ کھانا لگتے ہی
میزبان نے چند مہمانوں کو وی آئی پی میز پر کھانا تناول فرمانے کی دعوت دی ، ان
چند "خوش نصیبوں" میں میں بھی شامل تھا۔ میں نے سُنی ان سنی کر کے معذرت
کرلی اور دیگر مہمانوں کے ساتھ کھانا لینے میں مشغول ہوگیا ۔پر سوں ایک اور شادی
میں ایساہی ہوا لیکن میزبان کے بے حد اصرار پر میں زیرِ وہگیا اور بالاخر وی آئی
پی میز پر برا جمان ہوگیا۔ خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور طشتری خالی ہونے سے
پہلے اسے بھرلاتا ۔ پانی ، کولڈ ڈرنگ اور میٹھے کا انتظام بھی وہیں تھا۔ کم از کم
ایک میزبان بھی مستقل وہاں موجود تھا جو مہمانوں کو اور لینے کی ترغیب دلا رہا
تھا، ساتھ ساتھ خدمتگاروں کو بھی حکم دیا جارہا تھا کہ عمدہ بوٹیاں اور اچھے چاول پیش
کیئے جائیں۔کیونکہ یہ مرض اب عام ہوگیا ہے اس لیے سوشا کہ اسی پر کچھ گزارشات لکھ
دی جائیں۔
فرض کریں آپ کے ایک
دوست نے چار مہمانوں کو کھانے پر اپنے گھر بلایا جن میں آپ بھی شامل ہیں۔ چاروں
مہمان مقررہ وقت پر دوست کے گھر پہنچ گئے اور کچھ دیر گپ شپ رہی۔کھانا تیار ہوا
اور دو مختلف جگہوں پر اسے لگا دیا گیا۔ ایک امتیازی حقیقت کی ڈائنگ ٹیبل پر اور
ایک اسی ہال میں جہاں آپ بیٹھے ہیں۔ چار
میں سے دو مہمانوں کو کہا گیا کہ آپ دونوں حضرات ڈاءنگ ٹیبل پر تشریف لے آئیں اور دیگر
دو مہمانوں سے فرمایا گیا کہ اپ ہال میں موجود کھانا تناول فرمانا شروع کریں۔ جو
حضرات ڈائننگ ٹیبل پر تشریف رکھتے ہیں ان کے ساتھ مستقل ایک خانساماں موجود ہے۔
اور کہنے سے پہلے وہ چیز کو حاضر کردیتا ہے۔ وہ پیمانہ بھر بھر کر سالن اور چاول
نکال لاتا ہے اور عمدہ گوشت اور صاف ستھرے گلاس دونوں مہمانوں کو پیش کرتا ہے۔
خانساماں کے ساتھ ساتھ میزبان بھی موجود ہے اور سروس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس
کے برعکس دیگر دومہمانوں کے آگے کھانا موجود ہے اور وہ اسے تناول فرما رہے ہیں۔ میزبان مستقل
موجود نہیں ہے بلکہ کچھ دیر بعد ایک چکر لگا لیتا ہوا آپ کو صاف دکھائی دیتا ہے۔
ان دو مہمانوں کے لئے
جو عام ہال میں کھانا تناول فرمارہے ہیں'بے اکر' کا لفظ مجھے موزوں نہیں لگتا، میں
ان کیلئے انگرییز کا لفظ Insultingاستعمال کرنا
چاہوں گا، یہی حال ہماری شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کا ہے۔لیکن چونکہ وہاں کئی
سولوگوں کی اجتماعی Insult کی جارہی ہوتی ہے اس لئے شاید وہ اسے محسوس نہیں کرتے ۔ بعض
جگہوں پر عمدہ ٹیبل اور بعد جگہوں پر شیشے کا کمرہ ، یہ امتیازی سلوک کئی سو
مہمانوں کو احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ چند مہمان آپ سے زیادہ اہم ہیں۔
عام طور پر شادی بیاہ
کی تقاریب میں لڑکے والے لڑکی والوں کو اور لڑکی والے لڑکے والوں کو وی آئی پی
دسترخوان پر مدعو کرتے ہیں۔ عام مہمانوں
مِں میزبان کے ماموں، چچا، تایا، خالہ ،پھوپھی اور دیگر قریبی رشتہ داربھی موجود
ہوتے ہیں۔ اگر وی آئپی دسترخوان لگانا جروری ہی ہے تو پہلے ان لوگوں کا زیادہ حق
بنتا ہے، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا رتبہ باپ اور ماں کے برابر یا قریب ہے لیکن
ہم نئے رشتے بناتے ہیں پرانے رشتوں کی اہمیت کی قیمت پر، ایک اعراض یہ کیا جاسکتا
ہے کہ جہاں ہم شادی کررہے ہیں وہ نئے لوگ ہیں جب کہ یہ سارے تو اپنے ہی ہیں۔ اس کے
جواب میں میں یہی دلیل دونگا کہ جی ہاں "یہ اپنے ہیں"۔
No comments:
Post a Comment